نئی دہلی 15 ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)اپوزیشن انڈیا الائنس کے رہنماؤں نے جمعہ کو پارلیمنٹ احاطے میں گاندھی کے مجسمے کے سامنے 14؍ ممبران پارلیمان کی معطلی کے خلاف مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ ٹی ایم سی رکن پارلیمان ڈیریک اوبرائن کو جمعرات کو راجیہ سبھا سے معطل کیا گیا تھا جبکہ لوک سبھا سے ۱۳؍ مزید ممبران پارلیمان کو معطل کیا گیا تھا جن میں ڈی ایم کے کی رکن پارلیمان کنیموزی بھی شامل تھیں۔
جمعرات کو ڈیریک اوبرائن نے پارلیمنٹ سیکوریٹی معاملے کے خلاف اپوزیشن ممبران پارلیمان کے ساتھ ٹی شرٹ پہن کر احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ سیکوریٹی میں کوتاہی کے معاملہ پر اپنا بیان دیں۔ سونیا گاندھی نے بھی اس احتجاج میں شریک ہوئی تھی۔
پارلیمان کے باہر احتجاج کرتے ہوئے معطل ارکان پارلیمنٹ نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ انہیں بولنے کی وجہ سے معطل کیا گیا جبکہ قصوروار بی جے پی ممبران اسمبلی آزاد گھوم رہے ہیں۔ کانگریس نے اس موقع پر دراندازوں کو وزیٹر پاس فراہم کرنے پر بی جے پی ایم پی پرتاپ سمہا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ساتھ ہی احتجاج کرنے والے اراکین اسمبلی نے ان کی معطلی واپس لینے کا پرزورمطالبہ کیا۔
معطل کئے گئے ممبران پارلیمان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی آواز بلند کرنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے اور بی جے پی کے وہ ایم پی جنہوں نے سیکوریٹی معاملے کے ملزمین کو پاس فراہم کئے تھے وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ معطل کئے گئے رکن پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی معطلی کو ختم کیا جائے۔ ان میں سے ایک رکن پارلیمان ہیبی ایڈین نے کہا کہ معطل کرنا اور برخاست کر دینا اس حکومت کیلئے کچھ نیا نہیں۔ پچھلے ہفتے مہوا موئترا کی رکنیت منسوخ کی گئی تھی اور میسور کے وہ بی جے پی ایم پی جنہوں نے پارلیمنٹ میں غیر قانونی طورپرداخل ہونے والے ملزمین کو پاس فراہم کئے تھے اب بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔مجھے اور میرے ساتھیوں کو ملک کے عوام کی آواز بلند کرنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو پارلیمنٹ میں بولنا چاہئے۔ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائیاں ملتوی کر دی گئی تھیں۔